GCWUF Logo


Government College Women University Faisalabad

حسینہ معین کے ساتھ ایک نشست

پی آر اونمبر 244 مورخہ09-10-2017
میڈیا سیل گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد
حسینہ معین کے ساتھ ایک نشست

فیصل آباد( )گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی شعبہ اردو کے زیر اہتمام بین الاقومی شہرت یافتہ نامور فلم و ڈرامہ نگار”حسینہ معین کے ساتھ ایک نشست”کا انعقاد کیا گیاجس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نورین عزیز قریشی نے کی۔نشست میں صدارتی ایواڈ یافتہ حسینہ معین نے اپنی کہانی اپنی زبانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں قدم رکھتے ہوئے اپنے زمانہ طالبعلمی کی طرف پلٹ جاتی ہوں کیونکہ وہ زندگی کے بہترین دن تھے۔انہوں نے کہا کہ لکھنے کا آغاز بھی اسی زمانہ سے کیا جس میں ریڈیو پاکستان کے لئے کالج کی طرف سے 25منٹ کا ڈرامہ لکھنا تھا اور پھر اس طرح لکھتی چلی گئی۔انہوں نے کہا کہ ہمیشہ تہذیب اور ادب کے دائرے میں رہ کر لکھا اور معاشرے کے عکاس کردار پیش کیے کبھی بھی ایسا لکھنے کی کوشش نہیں کی جس سے تہذیب کی نفی ہوئی ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ آج کا ڈرامہ تہذیب سے بہت دور ہے اس میں صرف کمرشلائزیشن اور گلیمر پر زور دیا گیا ہے انہوں نے طالبات سے کہاآپ میں سے ہر ایک کواللہ تعالی نے بے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے ان کو بروکار لاتے ہوئے کچھ ایسا کر جائیں جس سے دنیا آپ پر فخر کرے ملک بہت بڑی امانت ہے جو ہم آپ کے حوالے کر رہے ہیں اپنے کردار اور عمل سے ملک کو امن و امان کا گہوارہ بنائیں ۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نورین عزیز قریشی نے کہا کہ میں تہہ دل سے حسینہ معین جیسی عہد ساز شخصیت کی مشکور ہوں جنہوں نے یونیورسٹی کو تشریف آواری کا شرف بخشا۔انہوں نے کہا کہ حسینہ معین وہ شخصیت ہیں جنہوں نے پوری آزادی اور بے حد خوبصورتی کے ساتھ خواتین کے کردار کی اپنے ڈراموں کے ذرائع عکاسی کی ہے انہوں نے کہا کہ آج خواتین کی آزادی کا دور ہے جس میں بہت ساری حسینہ معین کی ضرروت ہے جو اپنے قلم کیساتھ تہذیب و تمدن اور روایات کو متعارف کروائیں اورمعاشرے کی اصلاح کریں انہوں نے مزید کہا کہ علم آپ کو سیدھا راستہ دیکھاتا ہے اور اندھیروں میں مشعل کا کام کرتا ہے اس لئے تکالیف کو بہادری سے برداشت کریں اور مشکلات میں سے راستہ تلاش کریں۔انچارج شعبہ اردو ڈاکٹر طاہرہ اقبال نے کہا کہ حسینہ معین کے ساتھ ایک نشست کا مقصد یہ تھا کہ طالبات یہ جان سکیں کہ ایک نامور قلم دان یا فنکار کیسے بنتا ہے اور انسانوں کی بھیڑ میں رہتے ہوئے کچھ ایسا کر گزرتا ہے جو ہمیشہ یاد رہتا ہے۔سٹیج پر سوالات ، مکالمہ میں ڈاکٹر طاہرہ اقبال ،پروفیسر ڈاکٹر نگہت بھٹی ،شبانہ فخر،راشدہ ظفر، ڈاکٹر زمرد کوثر ،ڈاکٹر ظل ہما ،بشری علم دین اور رخسانہ بلوچ جبکہ میزبانی کے فرائض صدف نقوی نے سر انجام دئیے طالبات نے کھڑے ہو کر حسینہ معین کو خراج تحسین پیش کیا ۔