Downloads        Co-Curricular Socities        Time Table        CMS        ORIC                                                                       Tender        Auction        Career        Email        Contact Us       
GCWUF Logo


Government College Women University Faisalabad

Indigenous youth leadership conference

فیصل آباد ( ) تعلیم ہر مرد اورعورت کا بنیادی حق ہے اور یہ ہی تبدیلی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے جب تک معاشرہ تعلیم یافتہ نہیں ہو گا ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ ان خیالات کا اظہاروائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ فاروق نے گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن کے زیر اہتمام انڈیجینئس یوتھ لیڈر شپ کانفرنس 2019ء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نصف سے زائد آبادی خواتین پر مشتمل ہے جب تک یہ تعلیم یافتہ نہیں ہو گی پاکستان ترقی کی منازل تہہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے اور پاکستان کے بہتر مستقبل کے لئے خود کو ہنر مند اور جدت والا بنائیں نہ صرف اپنے لئے بلکہ دوسروں کے لئے بھی روزگار کے مواقع فراہم پیدا کریں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر سیفران و اینٹی نارکوٹکس شہر یار آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یورپ کے طالب علموں کے پاس جب کوئی وزیر یا کوئی اہم فرد آتا ہے تو وہ اس پر تحقیق کرتے ہیں،اس سے سوال جواب کرتے ہیں اور اپنے علم کو بڑھاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مسلمان وہ ہے جس نے دنیا کو لیڈ کرنا تھا جس کو اللہ نے اپنا نائب بنا کر بھیجا جس نے انسانیت سکھانی تھی مگر57ممالک میں پونے 2ارب مسلمان موجود ہونے کے باوجود اتنا گر گئے ہیں کہ کتے بلیاں اور کیڑے مکوڑے کھانے والے آج انہیں تہذیب سکھا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آج غیر مسلم ہمیں عورتوں، جانوروں، مزدوروں کے حقوق بتا رہے ہیں لیکن یہ مسلمان کا خاصا اور اس کی ہسٹری تھی۔ انہوں نے کہاکہ14سو سال پہلے بیٹیوں کو زندہ درگو ر کیا جاتا، انسانوں کو غلام بنایا جاتا اور بزرگوں کی تزلیل کی جاتی تھی جبکہ اس وقت 2سپر پاور روم اور فارس تھے مگراس وقت صحابہ کے پا س نہ مال و دولت تھی نہ تعلیم وہ فاقہ کش بدو تھے جنہوں نے قیصر وکسریٰ کے سر جھکا دیئے ان کے پاس کوئی پر تعیش زندگی نہیں تھی لیکن اللہ پر پختہ ایمان تھا یہی وجہ ہے کہ جب وہ تکلیف میں آتے تو دو رکت نماز نفل پڑھ کر اپنے اللہ سے مسئلہ حل کروا لیتے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اللہ سے سب کچھ ہونے کا یقین اور کسی سے کچھ بھی نہ ہونے کا یقین ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ یہ ہم کیسا معاشرہ پیدا کر رہے ہیں جس کو ظلم کے آگے سر جھکانے کی ترغیب دی جا رہی ہے کیونکہ ظلم کے آگے سر جھکانا بھی بڑا ظلم ہے یہی وجہ ہے کہ آج جب شام،لیبیا اور فلسطین میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہوتا ہے تو پوپ سے مدد مانگی جاتی ہے۔آج پناہ گزین کیمپوں میں سب سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے۔ کیمپوں سے پانچ پانچ سال کی بچیاں اٹھا کر فحاشی کے اڈوں پر پہنچا دی جاتی ہیں لیکن پناہ گزین کیمپوں کیلئے کوئی مسلمان نہیں بلکہ جرمنی کی انجیلا مر کل آگے بڑھتی ہے اور ان کو پناہ دینے کی بات کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ آج ہم دولت کی بنیاد پر شادیا ں کرتے ہیں،عراق میں تیل تھا لیکن وہاں مسلمانوں کی عزت کا کیا حال ہوا آج مسلمان تقسیم در تقسیم ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مسلمان شیعہ سنی،دیو بندی، بریلوی، اہلحدیث میں بٹ کر آپس میں دست و گریبان ہیں اسی لئے پوری دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ تعلیم کا مقصد انگریزی سیکھنا نہیں بلکہ قوم کو مہذب بنانا اور تہذیب سکھانا تھا۔ انہوں نے کہاکہ اللہ نے آپ کو اسلئے مسلمان نہیں بنایا کہ آپ وسائل کے ہوتے ہوئے بھی یورپ اور امریکہ سے بھیک مانگیں مگر یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم میں سے اللہ اور اس کے رسول کی بات کوئی نہیں سنتا مگر نئے پاکستان میں ہم ظالم کے آگے ڈٹ جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ آج بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی بہت کچھ ہو رہا ہے،آج اولاد ماں باپ کی گستاخ ہے اور یہ سب اسلئے ہے کہ حلال اور حرام میں تمیز ختم ہو گئی ہے لہٰذ ا ہمیں اپنی بنیاد کو نہیں کھونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ غریب کے بچے کے ساتھ جب ظلم ہوتا ہے تو اس کو میڈیا بھی نہیں دکھاتا لیکن ہمیں اپنی خود عزت بنانی ہے۔ انہوں نے طالبات کو تلقین کی کہ اللہ او اس کے رسول ؐ کے بعد اپنے والدین کو پیر و مرشد مانیں،رشتہ داروں کو جوڑیں۔انہوں نے کہاکہ یہ جو انسانوں کی شکل میں گدھ بچوں کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں انہیں ایسی عبرتناک سزادیں گے کہ لوگ یاد کریں گے۔انہوں نے کہاکہ میں نے پنجاب میں تربیت لی کیونکہ میری ماں کا تعلق پنجاب سے تھا مگر ہم کسی صوبائیت یا لسانیت پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ پنجاب، سندھ، گلگت بلتستان،خیبر پختونخواہ اور بلوچستان سب صوبوں میں رہنے والے لوگ ایک ہی ہیں۔تقریب سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر کمشنر فیصل آباد ڈویژن محمود جاوید بھٹی، دیگر انتظامی حکام، محکمہ تعلیم کے افسران، یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کے سربراہان اور سول سوسائٹی کی مختلف اہم شخصیات سمیت طالبات کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔