GCWUF Logo


Government College Women University Faisalabad

Awareness Seminar on Women Health & Breast Cancer (12-10-2017)

پی آر اونمبر 246 مورخہ11-10-2017
میڈیا سیل گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد
Pink Ribbon Day

فیصل آباد ( ) اپنا اور اپنی صحت کا خیال رکھیں تاکہ صحت مند انسان معاشرے پر بوجھ بننے کی بجائے ملک کی معاشی ،سماجی اور اقتصادی حالت تبدیل کر سکے۔
وائس چانسلر گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر نورین عزیز قریشی ان خیالات کا اظہار انہوں نے”بریسٹ کینسر اور خواتین کی صحت”کے حوالے سے ہائر ایجوکیشن کمشن ،گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی اورروٹرایکٹ کلب جنوبی فیصل آباد کے باہمی اشراک سے منعقدہ ایک روزہ سیمینار میں کیا۔ انہوں نے خواتین میں تیزی سے بڑھتے ہوئے چھاتی کے سرطان کے حوالے سے کہا کہ پاکستان میں چالیس ہزار سے زائد خواتین میں چھاتی کا سرطان موت کا باعث بنتا ہے اورکہاکہ خواتین ہچکچاہٹ اور شرمندگی کی وجہ سے اس بیماری کا تذکرہ نہیں کرتی ہیں اور پتہ اس وقت چلتا ہے جب بیماری آخری سٹیج پر ہوتی ہے اس لئے کم از کم سال میں اس مرض سے متعلق اپنے ٹیسٹ ضرور کرویں تاکہ ابتداء میں ہی اس کی تشخیص ہو سکے ۔ انہوں نے پنجاب حکومت اور ڈاکٹر نجمہ افضل کی فیصل آباد میں بریسٹ کلینک کے قیام کی کوششوں کو سراہا اور مبارک بادپیش کی ۔پروفیسر ڈاکٹر اعجاز حسین شاہ کنسلٹنٹ کینسر نے کہا کہ جسم کے کسی بھی حصے میں انہونی چیز کا ہونا جس پر کنٹرول نہ ہویا ایسی گلٹی جو درد نہ کرے وہ کینسر کا باعث بن سکتی ہے ایسی گلٹی جو درد کر ے وہ کینسر نہیں انہوں نے مزید کہا کہ سرطان کی اصطلاح 100سے زائد بیماریوں کے لئے استعمال کی جاتی ہے اور تمام میں یکسانیت یہ ہے کہ سلز حد سے زیادہ بڑھنے شروع ہو جاتے ہیں اور صحت مند ٹشوز کو تباہ کر دیتے ہیں اور اپنے نزدیکی خلیوں کو اثرانداز کرتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ چھاتی کا سرطان صرف عورتوں کو ہی نے مردوں کو بھی ہوتا ہے پاکستان میں یہ جنوبی پنجاب میں ذیادہ پایا جاتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں40سے50سال کی خواتین میں اس کی شرح ذیادہ ہے وزن میں اضافہ ، جنیاتی اثرات BRAC1 BRAC2) ( اور اولاد کا نہ ہونا بھی اس مرض کی موجب بن سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 78%لوگ علاج کے لئے اس وقت آتے ہیں جب مرض تیسری یاچوتھی سٹیج میں ہوتی ہے اور کہا کہ اس طرح کے آگاہی سیمینارز زیادہ سے زیادہ منعقد کیے جائیں تو یہ شرح کم ہو سکتی ہے
ممبر صوبائی اسمبلی ڈاکٹر نجمہ افضل نے کہا کہ خواتین روایات،ثقافت اورعدم مساوات کے نام پر بے پناہ مسائل کا شکار ہیں ہر سال 20ہزا ر سے زائد خواتین دوران زچگی موت کا شکار ہو جاتی ہیں ہمیں متحد ہو کرخواتین کی فلاح کے لئے کام کرنا ہے اور کہا کہ دیہی خواتین کی صحت کو مد نظر رکھتے ہوئے واک اینڈ انٹرویو کے زریعے میڈیکل آفیسرز اور لیڈی ہیلتھ ورکزکورکھا جا رہا ہے تاکہ وہ ان خواتین کو ان کے گھر صحت کی بنیادی معلومات اور علاج معالجہ کر سکیں۔ماہ گل کامران،فائضہ کنول،جلیل ملک ،اسد اللہ ہونین،اکرم خان و دیگر روٹیرین مہمانوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہمیں کلشیم،وٹامن اے ،وٹامن ڈی کا خیال رکھنا ہے اور ہلکی پھلکی ورزش کو بھی اپنے معمول میں شامل کرنا ہے اس کے ساتھ ساتھ بہت سی بیماریوں کے موجب صاف پانی کے مسئلے کو بھی زیر بحث لایا گیا ۔ آخرمیں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نورین عزیز قریشی نے مہمانوں کو سونئیر سے نوازا۔ ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افےئرز اسماء عزیزنے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔