Downloads        Co-Curricular Socities        Time Table        CMS        Attendance        ORIC                                                                       Tender        Auction        Career        Email        Contact Us       
GCWUF Logo


Government College Women University Faisalabad

Seminar on Together we are for Pakistan

فیصل آباد ( )گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی شعبہ ڈائریکٹوریٹ آف سٹوڈنٹس افیئرزاور وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے زیر اہتمام “ہم آ ہنگی برائے پر امن پاکستان، حق حقدا رتک ” سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر ہمایوں عباس شمس تھے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستانی قوم دنیا بھر میں ہر سال سب سے زیادہ صدقات، خیرات، عطیات،زکوٰ ۃ فراہم کرتی ہے،ایک سال میں 554ارب روپے کی رقم صدقات، خیرات، عطیات،زکوٰ ۃ کے طور پر دینا دنیا بھر میں ریکارڈ ہے، صدقات، خیرات، عطیات،زکوٰ ۃ دیتے وقت حقیقی مستحقین کا خیال رکھنا اشد ضروری ہے تاکہ غلط ہاتھوں میں جانے سے یہ رقم رحمت کی بجائے زحمت ہی نہ بن جائے۔ نیزعطیہ وصول کرنے والے شخص یا ادارے کے مشکوک ہونے کی صورت میں اس کی اطلاع فوری طو ر پر انسداد دہشت گردی کے ادارے نیکٹا کی طرف سے 24گھنٹے فعال رہنے والی ٹیلی فون ہیلپ لائن 1717پر دی جائے اور حکومت پاکستان کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تنظیموں جن کی لسٹ نیکٹا کی ویب سائٹ www.nacta.gov.pkپر موجود ہے کو کسی قسم کے صدقات، خیرات، عطیات،زکوٰ ۃ فراہم کر نے سے گریز کیا جائے۔ سیمینار سے خطاب کے دوران وزارت اطلاعات کے منیجرکمیو نیکیشن اینڈ کمیونٹی انگیجمنٹ پاکستان پیس کولیکٹو خرم شہزاد،شعبہ سٹوڈنٹ افیئرز کی انچارج ڈاکٹر اسماء عزیز،ڈاکٹر اسمہ ٓ افتاب جی سی یونیورسٹی فیصل آباد،ڈاکٹر ہمایوں عباس شمس جی سی یونیورسٹی فیصل آباد اور مسز عائشہ مبشر منہاج القران نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں صاحب ثروت افراد،مخیر شخصیات اور با حیثیت لوگوں کی جانب سے ہر سال دنیا بھر سے زیادہ خیرات دی جاتی ہے لہٰذا خیرات کرتے وقت ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہماری خیرات،زکوٰۃ،عطیات ا ور صدقات کہیں رحمت کی بجائے زحمت نہ بن جائیں جبکہ انتہا پسندانہ سوچ کے حامل افراد و اداروں کے ساتھ ساتھ نشہ کے عادی افراد کو بھی خیرات یا صدقات نہ دیئے جائیں کیونکہ صرف حقدار و مستحق شخص کو ہی امداد فراہم کرنا بہتریں عبادت و سعادت ہے۔انہوں نے کہاکہ اکثر اوقات بلکہ خاص کر ماہ رمضان اور ذی الحج میں مختلف تنظیمیں نام بدل بدل کر عطیات، صدقات اور کھالوں کا پیسہ وصول کرتی ہیں اسلئے ہر پاکستانی کا یہ قانونی، اخلاقی، انسانی فریضہ ہے کہ وہ پہلے اس بات کا اطمینان کر لے کہ وہ جس تنظیم کو عطیات و خیرات، زکوٰۃ و صدقات دے رہا ہے کہیں وہ کالعدم تو نہیں اور ان کودیا جانے والا پیسہ انتہا پسندی کیلئے تو استعمال نہیں ہو رہا۔انہوں نے کہاکہ ملک کو مختلف مسائل سے نکالنے کیلئے اس قسم کے اقدامات اور عوامی آگاہی ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر ہم حق حقدار تک پہچانے کی صحیح نیت رکھیں تو ہمیں بہت سے ادارے ایسے نظر آتے ہیں جو واقعی ہماری خیرات، صدقات، عطیات کے حقدار ہیں۔انہوں نے کہاکہ وزارت اطلاعا ت کی اس آگاہی مہم کا دائرہ کار ملک بھر میں پھیلایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم یہ نہیں کہتے کہ خیرات، عطیات، صدقات، زکوٰۃ نہ دی جائے لیکن یہ ضرور کہتے ہیں کہ آپ جس شخص یا ادارے کو بھی معاونت فراہم کریں وہ غیر قانونی، غیر اخلاقی،غیر انسانی و ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث نہ ہو۔انہوں نے کہاکہ حق حقدار تک پروگرام نیشنل ایکشن پلان میں چھٹے نمبر پر ہے۔انہوں نے کہاکہ اس پلان کے تحت حکومت پاکستان کی ویب سائٹ پر کالعدم تنظیموں کی فہرست موجود ہے اسلئے انہیں عطیات دینے سے گریز کیا جائے۔انہوں نے سیمینار کے شرکاء سے کہاکہ وہ اس پیغام کو اپنے آپ تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس پیغام کو ہر طریقے سے آگے پھیلائیں تاکہ عوام کو مکمل آگاہی حاصل ہو سکے۔انہوں نے کہاکہ عوام کا دیا گیا پیسہ درست جگہ پر استعمال ہونے سے حکومت کو بہت سے معاملات میں ریلیف مل سکتا ہے جبکہ عوامی ضروریا ت بھی باآ سانی پوری کی جا سکتی ہیں۔