عالمی امن کے لیے فلسطین اور مسجد اقصیٰ کی اہمیت

2021-06-22

عالمی امن کے لیے فلسطین اور مسجد اقصیٰ کی اہمیت-اسلامی مصادر کی روشنی میں” شعبہ علومِ اسلامیہ گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد کے زیر اہتمام ایک روزہ انٹرنیشنل ویبینار بعنوان " عالمی امن کے لئے فلسطین اور مسجد اقصیٰ کی اہمیت- اسلامی مصادر کی روشنی میں "بروز منگل 15 جون 2021ء کو منعقد کیا گیاجس کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر روبینہ فاروق وائس چانسلر گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد نے کی۔اس ویبینار کے مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق ڈائریکٹر جنرل اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد اور مہمان اعزاز ڈاکٹر حافظ اکرام الحق(سیکرٹری کونسل آف اسلامی آڈیالوجی منسٹری آف لاء اینڈ جسٹس اسلام آباد تھے۔ مقررین میں ڈاکٹر عاھد ابوالعطا صدر جنوب مشرقی ایشیا علماءکونسل نے اپنے خطاب میں فلسطین کی مدد کرنے کو شرعی ذمہ داری قرار دیا۔پروفیسر ڈاکٹر عبدالوہاب اکنجی صدر ترکش علماء کونسل نے اپنے خطاب میں فلسطین پر غاصبانہ قبضے کے حوالے سے جو بھی فرائض و واجبات ہیں اس پر روشنی ڈالی اور بحیثیتِ قوم ان فرائض کو پورا کرنے کی طرف توجہ دلوائی۔پروفیسر ڈاکٹر یحییٰ جہانگیری ایڈیٹر انچیف جنرل آف اسلامی انٹر ڈسپلنری سٹڈیز ایران نے بھی مسئلہ فلسطین کو تمام اسلامی ممالک کے لیے ایک اہم موضوع قرار دیا۔پروفیسر ڈاکٹر محمد سعد صدیقی صاحب ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سٹڈیز پنجاب یونیورسٹی لاہور نے اپنی خطاب میں کہا کہ اجتماعی عدل اور اخوت کے بغیر عالمی امن قائم نہیں ہوسکتا ۔ مسجد اقصیٰ تینوں مذاہب کے لیے خاص ہے لیکن اس پر مسلمانوں کا حق زیادہ ہے۔اس لیے ایک ارب چالیس کروڑ مسلمانوں کے شعائر کا تقدس پامال نہ کیا جائے اور ان کا حق تسلیم کیا جائے۔ اس کے بعد مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹرضیاءالحق نے خطاب کرتے تمام جامعات میں اس اہم موضوع کومدِّ نظر رکھتے ہوئے تحقیق کرانے کی تجویز پیش کی۔ڈاکٹر طاہر حمید تنولی ہیڈ آف ایکڈیمکس اقبال اکیڈمی لاہور نے بھی مسئلہ فلسطین کی اہمیت پر زور ڈالا ۔انہوں نے علامہ اقبال ؒاور قائد اعظمؒ کے نزدیک فلسطین کے مسئلہ اور اس کی اہمیت کو اُجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔مہمان اعزاز ڈاکٹر اکرام الحق نے فلسطین کی دینی ،تاریخی، سیاسی، معاشی اور جغرافیائی اہمیت پر روشنی ڈالی۔پروفیسر ڈاکٹر عصمت ناز ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز ویمن یونیورسٹی ملتان نے کہا کہ قبلہ اول اور انبیاء کی سرزمین ہونے کی وجہ سے مسجد اقصیٰ ہمارے لئے بہت اہمیت کی حامل ہے انہوں نے فلسطین پر ہونے والے مظالم اور پاکستان کی طرف سے مختلف پلیٹ فارم پر کیے گئے اقدامات کا بھی تذکرہ کیا۔آخر میں پروفیسر ڈاکٹر ہمایوں عباس شمس ڈیپارٹمنٹ آف اسلامک سٹڈیز جی سی یونیورسٹی فیصل آباد نے اختتامی کلمات ادا کیے اور بتایا کہ جرم ضعیفی کی سزا قوموں کو ہی ملا کرتی ہے اور اس سے نکلنے کا واحد راستہ قرآن و حدیث سے واضح ہے۔ کچھ کام عالمی طاقتوں کے کرنے کے ہیں اور کچھ کام عالمی اداروں کے کرنے کے ہیں۔ اگر ان مسائل کی طرف توجہ نہ دی گئی توکشمیر اور فلسطین جیسے مسائل دنیا کی بے سکونی کا سبب بنتے رہیں گے۔آخر میں ڈاکٹر عمرانہ شہزادی انچارج ڈیپارٹمنٹ آف اسلامک سٹڈیز نے تمام مقررین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یونیورسٹی کے پلیٹ فارم سے ہم نے ایک مذہبی اور اخلاقی فریضہ کی ادائیگی جہاد بالقول والقلم سے کی ہے اللہ تعالی اسے قبول و منظور فرمائے آمین۔ عالمی امن کے لیے فلسطین اور مسجد اقصیٰ کی اہمیت-اسلامی مصادر کی روشنی میں” شعبہ علومِ اسلامیہ گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد کے زیر اہتمام ایک روزہ انٹرنیشنل ویبینار بعنوان " عالمی امن کے لئے فلسطین اور مسجد اقصیٰ کی اہمیت- اسلامی مصادر کی روشنی میں "بروز منگل 15 جون 2021ء کو منعقد کیا گیاجس کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر روبینہ فاروق وائس چانسلر گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد نے کی۔اس ویبینار کے مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق ڈائریکٹر جنرل اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد اور مہمان اعزاز ڈاکٹر حافظ اکرام الحق(سیکرٹری کونسل آف اسلامی آڈیالوجی منسٹری آف لاء اینڈ جسٹس اسلام آباد تھے۔ مقررین میں ڈاکٹر عاھد ابوالعطا صدر جنوب مشرقی ایشیا علماءکونسل نے اپنے خطاب میں فلسطین کی مدد کرنے کو شرعی ذمہ داری قرار دیا۔پروفیسر ڈاکٹر عبدالوہاب اکنجی صدر ترکش علماء کونسل نے اپنے خطاب میں فلسطین پر غاصبانہ قبضے کے حوالے سے جو بھی فرائض و واجبات ہیں اس پر روشنی ڈالی اور بحیثیتِ قوم ان فرائض کو پورا کرنے کی طرف توجہ دلوائی۔پروفیسر ڈاکٹر یحییٰ جہانگیری ایڈیٹر انچیف جنرل آف اسلامی انٹر ڈسپلنری سٹڈیز ایران نے بھی مسئلہ فلسطین کو تمام اسلامی ممالک کے لیے ایک اہم موضوع قرار دیا۔پروفیسر ڈاکٹر محمد سعد صدیقی صاحب ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سٹڈیز پنجاب یونیورسٹی لاہور نے اپنی خطاب میں کہا کہ اجتماعی عدل اور اخوت کے بغیر عالمی امن قائم نہیں ہوسکتا ۔ مسجد اقصیٰ تینوں مذاہب کے لیے خاص ہے لیکن اس پر مسلمانوں کا حق زیادہ ہے۔اس لیے ایک ارب چالیس کروڑ مسلمانوں کے شعائر کا تقدس پامال نہ کیا جائے اور ان کا حق تسلیم کیا جائے۔ اس کے بعد مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹرضیاءالحق نے خطاب کرتے تمام جامعات میں اس اہم موضوع کومدِّ نظر رکھتے ہوئے تحقیق کرانے کی تجویز پیش کی۔ڈاکٹر طاہر حمید تنولی ہیڈ آف ایکڈیمکس اقبال اکیڈمی لاہور نے بھی مسئلہ فلسطین کی اہمیت پر زور ڈالا ۔انہوں نے علامہ اقبال ؒاور قائد اعظمؒ کے نزدیک فلسطین کے مسئلہ اور اس کی اہمیت کو اُجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔مہمان اعزاز ڈاکٹر اکرام الحق نے فلسطین کی دینی ،تاریخی، سیاسی، معاشی اور جغرافیائی اہمیت پر روشنی ڈالی۔پروفیسر ڈاکٹر عصمت ناز ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز ویمن یونیورسٹی ملتان نے کہا کہ قبلہ اول اور انبیاء کی سرزمین ہونے کی وجہ سے مسجد اقصیٰ ہمارے لئے بہت اہمیت کی حامل ہے انہوں نے فلسطین پر ہونے والے مظالم اور پاکستان کی طرف سے مختلف پلیٹ فارم پر کیے گئے اقدامات کا بھی تذکرہ کیا۔آخر میں پروفیسر ڈاکٹر ہمایوں عباس شمس ڈیپارٹمنٹ آف اسلامک سٹڈیز جی سی یونیورسٹی فیصل آباد نے اختتامی کلمات ادا کیے اور بتایا کہ جرم ضعیفی کی سزا قوموں کو ہی ملا کرتی ہے اور اس سے نکلنے کا واحد راستہ قرآن و حدیث سے واضح ہے۔ کچھ کام عالمی طاقتوں کے کرنے کے ہیں اور کچھ کام عالمی اداروں کے کرنے کے ہیں۔ اگر ان مسائل کی طرف توجہ نہ دی گئی توکشمیر اور فلسطین جیسے مسائل دنیا کی بے سکونی کا سبب بنتے رہیں گے۔آخر م

Event Organized By شعبہ علومِ اسلامیہ
Held on 2021-06-15